گذشتہ کچھ عرصے سے
پاکستان میں میڈیا کے چند بڑے اداروں کے باہمی اختلافات نامعقولیت کی تمام ممکنہ حدود
عبور کر چکے ہیں۔ یوں تو پاکستان میں صحافت میں بڑے گروپوں کی لڑائی کوئی نئی بات
نہیں۔ ماضی میں بھی روزنامہ جنگ اور نوائے وقت کے درمیان ٹھنی رہتی تھی مگر ان کی
لڑائی کی ہانڈی بیچ چوک میں ایسے نہیں پھوٹی تھی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ
اخبارات کی اشاعت محدود تھی جبکہ ٹی وی سکرین پر لامحدود ناظرین تک پہنچنا بہت
آسان ہے۔
بعض اوقات آسانیاں آپ کے لیے زیادہ مشکلات کا سبب بھی بنتی ہیں اور ہمارے میڈیا کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ آزادی جو کئی دہائیوں کی قربانیوں کے بعد ملی، ٹی وی چینلز کی کرامات سے کب مادر پدر آزادی میں ڈھل گئی، پتہ ہی نہ چلا۔ کہاں وہ وقت تھا جب اخبار میں چھپنے والی خبر کا ایک ایک لفظ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا تھا اور کہاں یہ وقت کہ ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز کرنے کے لیے پہلی شرط چرب زبانی اور بدتمیزی ٹھہری ہے۔ یعنی جو جتنا منہ پھٹ اور بدتمیز، اتنی ہی پروگرام کی ریٹنگز زیادہ۔
ریٹنگ کی اس مکروہ دوڑ میں بالآخر کسی نہ کسی چینل نے تو منہ کے بل گرنا ہی تھا۔ جیو ہی سہی۔۔۔ مگر جیو کے منہ کے بل گرنے میں ریٹنگ کی دوڑ سے زیادہ وہ زعم شامل تھا، جہاں بڑے بڑے بُرج بنانا، بگاڑنا، توڑنا اور جوڑنا گویا میڈیا کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا تھا۔ جہاں چند اداروں کو میڈیا ہاؤس سے زیادہ ’کنگ میکر‘ بننا زیادہ اچھا لگا۔ شاید اسی لیے سینئیر صحافی حامد میر پر حملے کے بعد کی جانے والی رپورٹنگ میں نہ کسی کو آداب ِ صحافت یاد رہے اور نہ ہی اداروں کا تقدس مطمع ِ نظر رہا۔۔۔
میڈیا کا یہ مکروہ کھیل یہیں تک محدود نہ رہا بلکہ الیکڑانک میڈیا کے اس اصل اورغلیظ چہرے کی ایک جھلک کا نقطہ ِ آغاز ثابت ہوا جسے بظاہر لیپا پوتی کرکے بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔ معلوم ہوا کہ میڈیا ایتھکس، آزادی ِ صحافت اور صحافتی اقدار جیسے الفاظ تو دل کے بہلاوے ہیں، پاکستانی میڈیا اصل میں ریٹنگ اور پیسے کا کھیل ہے۔۔۔ جو اس کھیل کو زیادہ عمدگی اور خوبصورتی سے کھیلے گا، جیت اسی کا مقدر ہوگی۔۔۔
کہاں ایک ڈیڑھ ماہ قبل یہ وقت تھا کہ کسی بھی نیوز چینل پر دوسرے چینل کا نام لینا ’ممنوعات‘ میں شامل تھا۔ نیوز چینل دوسرے چینل سے متعلق خبر ’ایک نجی ٹیلی ویژن‘ یا ’ایک نجی ٹیلی ویژن سے منسلک صحافی‘ کرکے چلاتا تھا۔ کہاں یہ عالم کہ ایک دوسرے کے نام اچھالے جا رہے ہیں۔ چند چینلز دوسرے چینلز کے صحافیوں کے ’اوصاف ِحمیدہ‘ پر سیاق و سباق کے ساتھ روشنی ڈالنے کا نیک عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سارے تماشے میں اتنی ’اوور ایٹنگ‘ شامل ہو چکی ہے کہ ایک عام ناظر بھی جسے گذشتہ چند سالوں میں میڈیا میں سنسنی خیز اور ہندی گانوں کی طرز پرچٹ پٹی خبریں دیکھنے کا شوق ہو چلا تھا، گھبرا گیا۔۔۔
دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ ادارتی سمجھ بوجھ کے فقدان کا خمیازہ (آئی ایس آئی پر الزام کو چند ماہرین جیو کی سوچی سمجھی تدبیر اور بعض تو ’ایجنڈا‘ بھی قرار دیتے ہیں)، جو یقیناً جیو سے منسلک چند اعلیٰ عہدیداروں کے آشیرباد کے بغیرممکن نہیں، جیو سے وابستہ وہ آٹھ ہزار کارکن کیوں دیں جن کا اس تمام واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں؟ جو روزانہ پوری ایمانداری سے اپنا کام کرکے رزق ِ حلال کماتے ہیں؟ تو پھر جیو کی دوکان کیوں بند کی جائے؟
طاقت کے نشے میں سرشار میڈیا ہاؤسز کو ان ہزاروں کارکنوں کی نوکریوں سے کیا مطلب جو جیو کی جگہ لینے کو بے تاب بیٹھے ہیں؟ یوں جیو کی گرتی ہوئی دیوار کو اپنے تئیں ایک دھکا دینے کے ’نیک عمل‘ میں چند بڑے میڈیا ہاؤسز نے اپنا کار ِخیر ڈالنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ شائستہ لودھی کے پروگرام نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پاکستان کے ان میڈیا ہاؤسز کا کام بظاہر آسان کر دیا جو جیو کو بند کراکے ہی دم لینا چاہتے ہیں۔۔۔ گو کہ وہ یہ حقیقت فراموش کر بیٹھے کہ پورا گاؤں بھی مر جائے تو مراثی کا بیٹا چوہدری نہیں بن سکتا۔۔۔ گویا جیو کے ڈھے جانے سے، آٹھ ہزار ملازمین کے منہ سے نوالہ چھیننے کے بعد بھی اے آر وائی جیسے چینلز کے لیے میڈیا کا ’چوہدری‘ بننا محض دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔۔۔
مگر میڈیا ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی کی روش سے ہٹنے کو تیار نہیں۔۔۔ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ نے آئی ایس آئی اور فوج سے مصافحہ کرنے کے لیے معافی شائع کی ہے مگر کیا یہ معافی اس دکھ کا مداوا ثابت ہو سکے گی جو میڈیا کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے لگایا گیا؟ کیا یہ معافی پاکستان میں میڈیا کے ایک نئے اور مثبت باب کا محرک بن سکے گی جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے؟ کیا یہ معافی ملک میں حقیقتاً اس صحافت کو فروغ دے سکے گی جس کے لیے کتنے ہی صحافیوں نے قربانیاں دیں؟
آنے والا مورخ رات کو آٹھ بجے ہر نیوز چینل پر اپنی اپنی دکان سجانے والے مداری کو کس نام سے یاد کرے گا، معلوم نہیں ۔۔۔ مگر یہ سچ ہے کہ میڈیا کی موجودہ صورتحال ان سبھی کے لیے ناقابل ِ برداشت بنتی جا رہی ہے جو ملک میں صحافت کو آگے جاتا دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ جو محض ایک غلطی کی سزا پر ایک بڑے میڈیا گروپ کو بند کرنے کے حامی نہیں ہیں اور جو اس واقعے کو ایک ایسی غلطی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جس کا اعتراف کرنے کے بعد پاکستان میں میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو لگام دینا ممکن ہو سکے گا۔۔۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں؟
نوٹ: اس بلاگ میں درج خیالات مدیحہ انور کے اپنے ہیں اور اس سے ادارہ وائس آف امریکہ کا کوئی تعلق نہیں۔
بعض اوقات آسانیاں آپ کے لیے زیادہ مشکلات کا سبب بھی بنتی ہیں اور ہمارے میڈیا کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ آزادی جو کئی دہائیوں کی قربانیوں کے بعد ملی، ٹی وی چینلز کی کرامات سے کب مادر پدر آزادی میں ڈھل گئی، پتہ ہی نہ چلا۔ کہاں وہ وقت تھا جب اخبار میں چھپنے والی خبر کا ایک ایک لفظ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا تھا اور کہاں یہ وقت کہ ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز کرنے کے لیے پہلی شرط چرب زبانی اور بدتمیزی ٹھہری ہے۔ یعنی جو جتنا منہ پھٹ اور بدتمیز، اتنی ہی پروگرام کی ریٹنگز زیادہ۔
ریٹنگ کی اس مکروہ دوڑ میں بالآخر کسی نہ کسی چینل نے تو منہ کے بل گرنا ہی تھا۔ جیو ہی سہی۔۔۔ مگر جیو کے منہ کے بل گرنے میں ریٹنگ کی دوڑ سے زیادہ وہ زعم شامل تھا، جہاں بڑے بڑے بُرج بنانا، بگاڑنا، توڑنا اور جوڑنا گویا میڈیا کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا تھا۔ جہاں چند اداروں کو میڈیا ہاؤس سے زیادہ ’کنگ میکر‘ بننا زیادہ اچھا لگا۔ شاید اسی لیے سینئیر صحافی حامد میر پر حملے کے بعد کی جانے والی رپورٹنگ میں نہ کسی کو آداب ِ صحافت یاد رہے اور نہ ہی اداروں کا تقدس مطمع ِ نظر رہا۔۔۔
میڈیا کا یہ مکروہ کھیل یہیں تک محدود نہ رہا بلکہ الیکڑانک میڈیا کے اس اصل اورغلیظ چہرے کی ایک جھلک کا نقطہ ِ آغاز ثابت ہوا جسے بظاہر لیپا پوتی کرکے بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔ معلوم ہوا کہ میڈیا ایتھکس، آزادی ِ صحافت اور صحافتی اقدار جیسے الفاظ تو دل کے بہلاوے ہیں، پاکستانی میڈیا اصل میں ریٹنگ اور پیسے کا کھیل ہے۔۔۔ جو اس کھیل کو زیادہ عمدگی اور خوبصورتی سے کھیلے گا، جیت اسی کا مقدر ہوگی۔۔۔
کہاں ایک ڈیڑھ ماہ قبل یہ وقت تھا کہ کسی بھی نیوز چینل پر دوسرے چینل کا نام لینا ’ممنوعات‘ میں شامل تھا۔ نیوز چینل دوسرے چینل سے متعلق خبر ’ایک نجی ٹیلی ویژن‘ یا ’ایک نجی ٹیلی ویژن سے منسلک صحافی‘ کرکے چلاتا تھا۔ کہاں یہ عالم کہ ایک دوسرے کے نام اچھالے جا رہے ہیں۔ چند چینلز دوسرے چینلز کے صحافیوں کے ’اوصاف ِحمیدہ‘ پر سیاق و سباق کے ساتھ روشنی ڈالنے کا نیک عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سارے تماشے میں اتنی ’اوور ایٹنگ‘ شامل ہو چکی ہے کہ ایک عام ناظر بھی جسے گذشتہ چند سالوں میں میڈیا میں سنسنی خیز اور ہندی گانوں کی طرز پرچٹ پٹی خبریں دیکھنے کا شوق ہو چلا تھا، گھبرا گیا۔۔۔
دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ ادارتی سمجھ بوجھ کے فقدان کا خمیازہ (آئی ایس آئی پر الزام کو چند ماہرین جیو کی سوچی سمجھی تدبیر اور بعض تو ’ایجنڈا‘ بھی قرار دیتے ہیں)، جو یقیناً جیو سے منسلک چند اعلیٰ عہدیداروں کے آشیرباد کے بغیرممکن نہیں، جیو سے وابستہ وہ آٹھ ہزار کارکن کیوں دیں جن کا اس تمام واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں؟ جو روزانہ پوری ایمانداری سے اپنا کام کرکے رزق ِ حلال کماتے ہیں؟ تو پھر جیو کی دوکان کیوں بند کی جائے؟
طاقت کے نشے میں سرشار میڈیا ہاؤسز کو ان ہزاروں کارکنوں کی نوکریوں سے کیا مطلب جو جیو کی جگہ لینے کو بے تاب بیٹھے ہیں؟ یوں جیو کی گرتی ہوئی دیوار کو اپنے تئیں ایک دھکا دینے کے ’نیک عمل‘ میں چند بڑے میڈیا ہاؤسز نے اپنا کار ِخیر ڈالنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ شائستہ لودھی کے پروگرام نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پاکستان کے ان میڈیا ہاؤسز کا کام بظاہر آسان کر دیا جو جیو کو بند کراکے ہی دم لینا چاہتے ہیں۔۔۔ گو کہ وہ یہ حقیقت فراموش کر بیٹھے کہ پورا گاؤں بھی مر جائے تو مراثی کا بیٹا چوہدری نہیں بن سکتا۔۔۔ گویا جیو کے ڈھے جانے سے، آٹھ ہزار ملازمین کے منہ سے نوالہ چھیننے کے بعد بھی اے آر وائی جیسے چینلز کے لیے میڈیا کا ’چوہدری‘ بننا محض دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔۔۔
مگر میڈیا ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی کی روش سے ہٹنے کو تیار نہیں۔۔۔ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ نے آئی ایس آئی اور فوج سے مصافحہ کرنے کے لیے معافی شائع کی ہے مگر کیا یہ معافی اس دکھ کا مداوا ثابت ہو سکے گی جو میڈیا کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے لگایا گیا؟ کیا یہ معافی پاکستان میں میڈیا کے ایک نئے اور مثبت باب کا محرک بن سکے گی جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے؟ کیا یہ معافی ملک میں حقیقتاً اس صحافت کو فروغ دے سکے گی جس کے لیے کتنے ہی صحافیوں نے قربانیاں دیں؟
آنے والا مورخ رات کو آٹھ بجے ہر نیوز چینل پر اپنی اپنی دکان سجانے والے مداری کو کس نام سے یاد کرے گا، معلوم نہیں ۔۔۔ مگر یہ سچ ہے کہ میڈیا کی موجودہ صورتحال ان سبھی کے لیے ناقابل ِ برداشت بنتی جا رہی ہے جو ملک میں صحافت کو آگے جاتا دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ جو محض ایک غلطی کی سزا پر ایک بڑے میڈیا گروپ کو بند کرنے کے حامی نہیں ہیں اور جو اس واقعے کو ایک ایسی غلطی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جس کا اعتراف کرنے کے بعد پاکستان میں میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو لگام دینا ممکن ہو سکے گا۔۔۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں؟
نوٹ: اس بلاگ میں درج خیالات مدیحہ انور کے اپنے ہیں اور اس سے ادارہ وائس آف امریکہ کا کوئی تعلق نہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے میڈیا ہاوسز سے میڈیا کی آزادی برداشت نہ ہوسکی۔ اور ضرورت سے زیادہ آزادی کی وجہ بد ہضمی کا شکار ہوگئی۔ اگر میڈیا پر قوانین نافذ کئے جائیں تو اظہار رائے پر قدغن کا رونا رویا جاتا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ میڈیا اپنا ضابطہ اخلاق خود بنائےگا۔ ٹھیک ہے جناب ضرور بنائیں اپنا ضابطہ اخلاق بنائیں۔ لیکن کیسے اور کب، اور اگر آپ اپناضابطہ اخلاق بنا لیں تو اس پر عمل درآمد کون کرائے گا اوراس بات کا فیصلہ کون کرےگاکب اور کس وقت آزادی اظہار کس وقت آزادی آزار بن گئ ہے۔
ReplyDeleteجہاں تک پیمرا کا تعلق ہے تو اس کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ اس ادارے کا کیا کام ہے اور اس نہ بغیر کسی سربراہ کے اپنا قبلہ کیسے درست کرنا ہے۔ ورنہ اب تک تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دیگر مختلف ادارے اور طاقتور لوگ اپنے اپنے حساب سے پیمرا کا قبلہ درست کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
اب تو ملک کے سب سے بڑے میڈیا ہاوس نے اپنے کئے پر معافی کا طلبگار ہے۔ لیکن کیا یہ معافی قابل قبول ہے یا ہوگی اور کیا دیگر میڈیا ہاوسز حکومتی روش دیکھنے کے بعد اپنے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کریںگے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ہاں شاید جیو کی معافی کے بعد اس کےملازمین کا مستقبل محفوظ ہو جائے۔
Pakistan main Media abhi tak mukamal Azad nahi ho saka hai Media Houses k naam pe saji dukaanoo main suchi khabroon ka fuqdaan paya jata hai aur jo khabrain hain wo bikao maal hain jis ne jitna maal lagaya utni coverage hasil ki Such to ye hai k Pakistan main Media Azad ho hi nahi sakta ager Govt.Azadi de b de to Media Houses K malkaan Azad rehna Pasand nahi kartai wo Media ko kisi na kisi ki jholi main Zaroor daal detai hain
ReplyDeletewell written kindly join www.journallistlink.com a professional networking web for journalists
ReplyDelete